Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
34 - 82
 ملاقات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔  اور یہ مطالعہ جہاں مُبلغ کے تجربے میں  اضافہ  کرتا ہے  وہیں  اس کی گفتگو  کو مؤثر اور پُر دلیل بھی بنا دیتا ہے اور اس سفر کی بدولت مبلغ کو اپنی ذات میں خوف ِخدا  اور تکالیف و مشکلات  برداشت کرکےصبر و شکر وغیرہ جیسے اوصاف پیدا کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے بھی کئی ملکوں  کا سفر فرمایا  اور بہت سارے تجربات  حاصل کیے ا ٓپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے سفر کی دوحکایات ملاحظہ کیجیے :
(۱)بھوکے شیر کا ایثار

حضرتِ سیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میں نے شیخ احمد حمّادسَر خسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے ان کی توبہ کا سبب پوچھا ، تو کہنے لگے:ایک بار میں اپنے اُونٹوں کو لے کر سَر خَس سے روانہ ہوا ۔ دورانِ سفر جنگل میں ایک بُھوکے شیرنے میرا ایک اُونٹ زخمی کر کے گرا دیا اور پھر بُلند ٹیلے پر چڑھ کر ڈَکاڑ نے لگا، اُس کی آواز سنتے ہی بَہُت سارے دَرِندے اِکٹّھے ہو گئے۔شَیر نیچے اُترا اور اُس نے اُسی زَخمی اُونٹ کوچِیرا پھاڑا مگر خود کچھ نہ کھایا بلکہ دوبارہ ٹیلے پر جا بیٹھا ، جَمْعْ شُدہ درِندے اُونٹ پر ٹوٹ پڑے اور کھا کر چلتے بنے، باقی ماندہ گوشْتْ کھانے کیلئے شَیر قریب آیا کہ ایک لنگڑی لُومڑی دُور سے آتی دِکھائی دی، شیر واپَس اپنی جگہ چلا گیا۔ لُومڑی حسبِ ضَرورت کھا کر جب جا چکی تب شیر نے اُس گوشت میں سے تھوڑا سا کھایا ۔ میں دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا ، اچانک شیر نے میرا رُخ کیا