مرشد کی آخری نصیحت
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بوقت ِوصال اپنے مرشدِ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو مُرشدِ کریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پُرسکون زندگی گزارنے کا یہ مدنی پھول آپ کی جانب بڑھایا :یاد رکھئیے! ہر جگہ اور ہر حال اللہ عَزَّ وَجَلَّکا پیدا کردہ ہے ۔ خواہ نیک ہو یا بد ، ہمیں چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کردہ کسی بھی چیز سے خصومت( یعنی عدوات و دشمنی) نہ رکھیں اور نہ ہی کسی کی جانب سے ملنے والے رنج و غم کو دل میں جگہ دیں۔“ (۱)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےكس قدر خوبصورت مدنی پھول عطافرمایاکہ کسی کے لیے اگر ہم اپنے دل میں نفرت کے بچھو پالتے رہیں گے تو ان کا زہر بغض و کینہ ، عداوت و دشمنی اور بدگمانی کی صورت میں دماغ پر حاوی آکر اخلاق و کردار میں بگاڑ پیدا کردے گا یوں ہماری زبان غیبت و چغلی وغیرہ کے شعلے اُگلے گی۔ مَعْلوم ہوا کہ کسی کے لیے بھی دل میں مَعمولی نفرت کو جگہ دینا کس قدر مُہلک اور تباہ کُن ہے لہذا آپ بھی اپنے دل میں مسلمان کے لیے محبت پیدا کیجیے اور اگر خدا نخواستہ کسی مسلمان سے تکلیف پہنچے یاشکر رنجی پیدا ہوہی جائے توصبر کیجیے اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود آگے بڑھ کر معافی مانگ لیجیے اس کی برکت سے ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا او ر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے اس اسلامی بھائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین،ص۱۷۳