Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
31 - 82
ڈال رہا تھا ، میرے دل میں خیال گزرا کہ جب تمام کام قسمت و تقدیر پر منحصر ہیں تو آزاد لوگ کیوں کرامت (یعنی عزت) کی خواہش میں مُرشد کے غلام بنے پھرتے ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے فرزند!جو خیالات تمہارے دل میں گزررہے ہیں میں نے جان لیے ہیں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر حکم کے لئے کوئی سبب ہوتا ہے جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی سپاہی کے بیٹے  کو تاج و تخت عطا فرماتا ہے تو وہ اسے توبہ کی توفیق دے کر کسی دوست و محبوب کی خدمت کی سعادت  عطا فرماتا ہے تاکہ یہ خدمت اس کی کرامت( یعنی عزت) کا سبب بنے۔ (۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ پیر و مرشد نے حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کیسی دستگیری فرمائی۔ اس حکایت سے یہ مدنی پھول بھی حاصل ہوا کہ  مرشد کی بارگاہ میں  مرید کو ہمیشہ شفقت کا   طالب رہنا چاہیے اور اگر مرید بدظن ہوکر پیر پر اعتراض کرتا پھرے تو یہ بدگمانی اور اِعتراض اُسے نعمتِ الٰہی سے محروم کردینے کے لیے کافی ہے لہذا جتنا بھی بڑا مقام و منصب  حاصل ہواُسے پیر ہی کی عطا سمجھنا چاہیے۔
سدا پیر و مرشد رہیں مجھ سے راضی
کبھی   بھی  نہ ہوں  یہ خفا یا       الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین،ص۱۷۳