Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
29 - 82
اداؤں کو اپنے ذہن میں نقش فرما لیا کرتے  تھے ،پیر و مُرشد کا تصور اور تذکرہ مرید کے لیے مفید ترین ہے  کیوں کہ یہ بھی نیک بننے کا ایک ذریعہ ہے۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے  کہ جب تک مرید اپنے مرشِد کی ذات میں خودکو گم نہیں کرتا اس کے لیے کامیابی پانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ تصورِ مرشِد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنے دل میں مرشِد کی مَحبت بڑھائیےکیوں کہ جتنی مَحبت زیادہ ہوگی تصورِ مرشد  میں اتنی ہی  آسانی ہوگی۔کاش!  ہماری سوچ کا محورمرشِد کی ذات  بن جائے  ان کے ہرہر انداز، عادت اورعمل کو بغور دیکھ کر اپنانے کی کوشش کرنا ہمارا معمول بن جائے اس طرح چلنے پھرنے ،کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے  وغیرہ میں مرشد کا انداز اپنا نے کا موقع میسر آئے گا  اور اس کی برکت سے ہماری بری عادتیں بھی نکلیں گی ،فیضانِ مرشد سے مشکلات آسان ہوں گی اورہمارا ظاہر و باطن  حسن ِ اخلاق  کے نو ر   سے  مُنَوَّر ہوگا ۔
مرشدِ کریم کے مدنی پھول
میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!انسان کو جس سے جتنی مَحبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اتنی ہی کثرت سے کرتا ہے ۔ مرشد سے محبت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مرید ان سے ظاہر ہونے والی برکتوں کا خوب تذکرہ کرے اوراُن کے مَلْفوظات کی خوب اِشاعت کرے ۔ حضرت سیّدنا داتا گنج علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مایہ ناز کتاب کشف  المحجوب میں  مرشد کے ملفوظات نقل فرمائے ہیں،آپ بھی