اپنی اِصلاح کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ پڑھ کر بھی علم حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن مرشد کی ادا ؤں کو ذہن میں محفوظ ر کھ کر موقع بہ موقع تصورِ مرشد کرنے سے اس علم پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرشد کی اداؤں کو بغور مُلاحظہ فرماتے اور حسبِ موقع مُرشد کے عمل کی حکمت پوچھ کراسے ذہن نشین فرمالیتے چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں: ایک دن میرے مرشدِ بر حق نے بَیْتُ الجِن سے دمشق جانے کا ارادہ فرمایا۔ بارش کی وجہ سے مجھے کیچڑ میں چلنے میں دشواری ہو رہی تھی مگر جب میں نے اپنے مرشد کی طرف دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کپڑے اور جو تیاں خشک تھیں ،میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کی(اور اس حیرت انگیر واقعے کی حکمت دریافت کی ) تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً ارشاد فرمایا : ہاں ! جب سے میں نے تَوَکُّل کی راہ میں اپنے قصدو ارادے کو ختم کر کے باطن کو لالچ کی وَحْشَت سے محفوظ کیا ہے اس وقت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے کیچڑ سے بچا لیا ہے ۔(۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُرشِد کی عبادت و ریاضت اور دنیا سے بے رغبتی کی کیا بات ہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے مُرشد کے احوال جس خوبصورت انداز میں بیان فرمائے ہیں اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکس طرح اپنے مُرشِد کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی فرق فرقھم فی مذاہبھم الخ،ص۲۵۵