على المرتضی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے حاصل ہوا تھا جن کی پر ورش آغوشِ نبوت میں ہوئی اور جو فیضانِ رسالت سے فیضیاب ہوئے۔ (۱)
تعارف ِمرشد کامل بزبانِ مریدِ کامل
حضرت سیّدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرشدِ کریم کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :آئمۂ متأخرین میں سے زینِ اَوتاد(یعنی اوتاد کی زینت)، شیخ عِباد(عبادت گزار بزرگ) ہیں ۔ طریقت میں میری ارادت انہی سےہے ۔ آپ علم ِتفسیر و روایات کے عالم اورتصوف میں حضرت سیدنا جنید بغدادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہم مشرب تھے۔حضرت سیدنا ابوالحسن علی بن ابراہیم حُصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مرید،حضرت سَرَّدی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ)کے مُصاحب اورحضرت ابوحسن بن سالبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہم عصر تھے ۔ساٹھ سال کامل گوشہ نشینی اِخْتیار فرمائی ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نشانیاں اور بَراہین بکثرت ہیں، لیکن آپ عام صوفیا ء کے رسم و لباس کے پابند نہ تھے ، اہلِ رسوم سے سخت بیزار تھے میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بڑھ کرکسی اور کا رُعب و دبدبہ نہیں دیکھا۔(۲)
توکل کی برکت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُرشد کی صحبت میں رہ کر دانا مرید سیکھتا اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … سیدِ ہجویر،ص۹۵،اللہ کے خاص بندے،ص۴۶۱
۲ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین،ص۱۷۳