حضرت سیّدنا خضر علیہ السلام سے اکتسابِ فیض
حضرت سیّدُنا علی خوّاصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات کی تین شرطیں ہیں ، جس میں یہ تین شرائط نہ ہوں وہ آپ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات نہیں کرسکتا اگرچہ جن و انس سے زیادہ عبادت گزار ہو ۔(۱)وہ سنّت کا عامل ہو، بدعتی نہ ہو۔(۲)دنیا پر حریص نہ ہو،اگر وہ ایک روٹی بھی دوسرے دن کے لیے بچا کر رکھے تب بھی حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات نہیں کر سکے گا ۔(۳)مسلمانوں کے لیے اس کا سینہ بالکل صاف ہو، نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ ہی حسد اورنہ ہی وہ کسی پرتکبر کرتا ہو ۔ (۱)
حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عاملِ سنّت ،حرص ِ دنیا سے کوسوں دور اور مسلمانوں کے خیرخوا ہ تھے اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نہ صر ف ملاقات فرمائی بلکہ آپ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت میں رہ کر ظاہر ی و باطنی علوم حاصل فرمائے نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہت ہی گہری دوستی تھی ۔ (۲)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … المیزان الخضریہ ،ص۱۵
۲ … کشف المحجوب،دیباچہ،ص۱۶