وَلیُّ اللہ گزرے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت۳۸۰ ھ میں گرگان (نزد طوس صوبہ خراسان رضوی) ایران میں ہوئی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ عالم،صوفی اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ۲۳ صفرالمظفر ۴۵۰ ھ میں وِصال فرمایا۔مزار مبارک تربت حیدریہ صوبہ خراسان رضوی ایران میں ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوتمام ظاہر ی علوم پر دسترس حاصل تھی،حسنِ اخلاق میں بھی بے مثال تھا ،طلباء کی بات نہایت تو جہ اور اطمینان سے سماعت فرماتے اور ان کی دِلی کیفیت جان کر اِصلاح فرمایا کرتے ،لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر بے پناہ اِعتماد کرتے اورہرایک کا دل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب کھنچا چلا جاتا ، انہی خصوصیات کی بِنا پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ”لِسانُ العَصْر “کے لقب سے مشہور تھے ۔حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوبھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےفیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔(۱)
صحبت سے متعلق سوال
ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُناابوقاسم بن علی گرگانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگا ہ میں عرض کی:شرطِ صحبت کیا ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےارشاد فرمایا:صحبت میں ہر قسم کی آفات موجود ہیں ،کیوں کہ (صحبت کی سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ)ہرایک اَپنا مَطلب پورا کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ آسائِش کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین،ص۱۷۵