حکایتوں سے حاصل ہونے والے مدنی پھول
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ا ن دونوں حکایتوں کے ذریعے اساتذہ اور طلبا دونوں ہی کے لیے بے شمار مدنی پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں ،مثلاً
(۱)اگر طلباء اساتذہ سے حاصل ہونے والی نصیحتوں کو غورسے سن کر ذہن میں محفوظ کرلیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں تو یہ انہیں کامیابی تک پہنچانے کے لیےبے حد معاون ثابت ہوں گی ۔
(۲)کوئی بات ذہن نشین کرانے کے لیے اگر اُس موضوع پر حکایت سنا دی جائے تو وہ بات جلد ذہن نشین ہوتی ہے اور اس کا اثر بھی ساری زندگی باقی رہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی تحریروں ،بیانات اور مدنی مذاکروں میں اولیاء کرام کے اس خوبصورت انداز کو اختیار فرماتے ہوئےعلم و حکمت سے بھرپور حکایات بیان کرکےنصیحتوں کے مدنی پھول ارشادفرماتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نصیحتیں دل و دماغ میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور اس کا اثر سننے والے کے ظاہر پر بھی نظر آتا ہے ۔
(۳) پہلی حکایت میں قناعت اور دوسری حکایت میں رضائے الٰہی پر راضی رہنے کی تربیت ہےاوریہ دونوں وصف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پسندیدہ بندہ بنانے میں بے حد مُعاون ہیں ۔