Brailvi Books

فیضانِ داتاعلی ہجویری
19 - 82
حضرت سیدنا عَبْدُ الکَرِیم بن ہَوَازِن قُشَیْرِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا: مَیں نے ایک بار طائرانی(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) سے پوچھا: آپ اپنا ابتدائی حال سنا ئیے۔  ارشادفرمایا:” ایک وقت مجھ پر وہ تھا کہ ایک پتھر کی ضرورت پڑی، سرخس کی ایک نہر سےجو پتھر مَیں نے اٹھایا ،وہی جوہر(قیمتی پتھر) بن گیا۔ مَیں نے اسے پھینک دیا۔“(حضرت سیدنا  ابوالقاسم قشیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآپ کے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں )یہ اس لیے نہیں کہ ان کی نظر میں جو ہر (قیمتی پتھر) اور پتھر یکساں تھے، بلکہ اس لیے کہ انہیں پتھر کی ضرورت تھی، جو ہر (قیمتی پتھر) درکار نہ تھا۔ (۱)
 (۲)رب عَزَّ  وَجَلَّ كی رضا میں میری رضاہے 
حضرت سیّدناداتاعلی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’ مَیں نے استاد ابوالقاسم قشیری(عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی ) سے سنا کہ لوگوں نےغربت و امیری میں گفتگو کرکے اپنے لیے ایک کو پسند کرلیاہے۔ مگرمَیں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا جمیلِ حقیقی (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ )جو پسند فرمائے، اس میں ہی مجھے رکھے۔اگر میرے لیے دولت مند ہوناپسند فرمائے تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے اور اگر غربت  پسند فرمائے ،تو اس میں حرص و لالچ  سے محفوظ رکھے۔‘‘(۲)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ … کشف المحجوب،باب فی فرق فرقھم  فی مذاہبھم الخ،ص۲۴۴
۲ … کشف المحجوب، ص ۲۵