جَبُّ الْحزن ہے اس میں کالے خَچَّر کی مانند بچّھوہیں ۔ اس کے ستَّر ڈنک ہیں اور ہر ڈنک میں زہر کی تھیلی ہے ۔ وہ بچّھوجب بے نَمازی کو ڈنک مارتا ہے تو اُس کا زہر اس کے سارے جسم میں سَرایت کرجاتاہے اوراس زَہر کی گرمی ایک ہزار سال تک رہتی ہے ۔ اس کے بعد اس کی ہڈّیوں سے گوشت جَھڑتا ہے اور اس کی شرمگاہ سے پیپ بہنے لگتی ہے اورتمام جہنَّمی اُس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ (قُرَّۃُ العُیُون معہ الرَّوضُ الفائِق،ص۳۸۵)
{3}شرابی کی توبہ
بستی خانپور(تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی، پنجاب)بستی خانپورکے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے قبل گناہوں کی تاریک وادیوں میں کھویا ہوا تھا، بدقسمتی سے میرا اٹھنا بیٹھنا چرسی اور شرابی لوگوں کے ساتھ تھا، جس کی نحوست سے میں بھی چرس اور شراب اور آوارہ گردی کا عادی بن گیا تھا، برے دوستوں کی صحبت کی بدولت یہ عادتِ بد دن بدن راسخ ہوتی جارہی تھی، مجھے تباہی کے عمیق گڑھے میں گرتا ہوادیکھ کر سب گھروالے پریشان تھے، والدہ بارہا مجھ نصیحت کرتی، دنیا وآخرت کی بربادی سے ڈراتی اور نشے کی تباہ کن عادت بد چھوڑنے کا حکم دیتی، مگر میں ایسا بے حس انسان تھا کہ ان کی باتوں کو سنی ان سنی کردیتا، والد صاحب بھی مجھ سے خفا