Brailvi Books

دلوں کا چین
8 - 32
قیامت وہ اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّکے دیدار سے سرفراز ہو گا۔ بے نمازی سے اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّناراض ہوتا ہے جو جان بوجھ ایک نماز قضا کر دیتا ہے اس کانام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے، بے نمازی کو جب قبر میں ڈالا جائے گا تو قبر اُس کو اِس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی، بے نمازی کی قبر میں آگ بھڑ کا دی جائے گی اور اس پر ایک گنجا سانپ مسلط کر دیا جائے گا ، بروزِ قیامت اس کاحساب سختی سے لیا جائے گااور کل بروز قیامت سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ چنانچہ، 
	دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا وہ یہ کہ اس کی نماز دیکھی جائے گی اگر وہ صحیح ہو گی تو وہ نجات پا جائے گا اور اگروہ صحیح نہ ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہو گا۔ (معجم اوسط، ۳/۳۲، حدیث: ۳۷۸۲)
	منقول ہے ، جہنَّم میں ایک وادی ہے جس کا نام لملم ہے، اس میں اونٹ کی گردن کی طرح موٹے موٹے سانپ ہیں ، ہر سانپ کی لمبائی ایک ماہ کی مَسافَت کے برابر ہے ۔ جب یہ سانپ بے نَماز ی کو ڈَسے گا تو اُس کا زہر اس کے جسم میں ستَّر سال تک جوش مارتا رہے گا اورجہنَّم میں ایک وادی ہے جس کا نام