گلدستے کو سجاتارہا، اسی دوران امیر مدنی قافلہ نے مدنی انعامات کارسالہ پیش کیا اور اس کی اہمیت اجاگرکرتے ہوئے پابندی سے اسے پرکرنے کی ترغیب دلائی، اس رسالے میں موجود عبادت کے مدنی پھولوں نے میرے مسام دماغ معطر کر دیئے، مدنی انعامات کے رسالے کی صورت میں امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہکی اصلاح امت کی کڑھن دیکھ کر میں نے ہاتھوں ہاتھ بیعت کے لیے اپنا نام پیش کردیا، یوں میں قادری، رضوی ، عطاری رنگ میں رنگ گیا، ایک اللّٰہ والے سے نسبت کیا قائم ہوئی، میری زندگی میں عمل کی بہار آگئی، دل گناہوں سے بیزار اور نیکیوں کی جانب مائل ہوگیا، میں نے سابقہ بداعمالیوں سے اپنا نامہ اعمال پاک کرنے کے لیے بارگاہ الٰہی میں توبہ کی اور دعوت اسلامی کا مدنی ماحول دل وجان سے اپنالیا۔
مدنی ماحول کے فیضان سے دن بدن میرے اخلاق وکردار میں نکھار آنے لگا، میرے سب گھروالے اس تبدیلی سے بہت خوش تھے ، اچھے ماحول میں داخل ہونے کی برکت سے جہاں مجھے اپنی اصلاح کی فکر لاحق ہوئی وہیں دل نیکی کی دعوت دینے کے جذبے سے سرشار ہوگیا ،اسی مقدس جذبے کے تحت میں نے اہل خانہ کو بھی نیکی دعوت دینا شروع کردی، جس کی برکت سے ہمارے گھر کے خزاں رسیدہ چمن میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار ماحول کی بہار آ گئی، تمام