نمازوں میں سستی کا شکار تھا مگر اب اذان کی آواز فضاکو پرکیف کرتی تو میں فوراًمسجد کا رخ کرتا اور اپنے پاک پروردگارکی مقدس بارگاہ میں سربسجود ہوکر دارین کی سعادتیں طلب کرتا، اپنے گناہوں سے معافی کی بھیک مانگتا، مدنی ماحول کی برکت سے میں نیکی کی شاہرہ پر گا مزن ہونے کے ساتھ ساتھ قلبی سکون کی نعمت سے مالامال ہوتاگیااورگناہوں کے عذابات سن کر فلموں ڈراموں سے مکمل نجات حاصل کرنے اور شریعت کی پابندی کرنے کامدنی ذہن بن گیا، مزید جب میری شادی کی ترکیب ہوئی تو غیر شرعی رسومات سے بچنے کی بھرپور کوشش کی گئی، اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی کے حصول کے لیے شریعت کی پاسداری کی ۔ اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّمجھے دعوت اسلامی کے مدنی ماحو ل میں استقامت نصیب فرمائے۔
آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اچّھی صُحبت ملے، خوب برکت ملے
چل پڑو چل پڑیں قافِلے میں چلو
{2}پورا گھرانہ سدھر گیا
فتح جنگ (ضلع اٹکپنجاب)کے ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں