میرے سامنے تھا، روضہ انور کی سنہری جالیوں کے پاس دیوانوں کا ہجوم ہے اور سارے آقائے دوعالم کے دولھا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں دست بستہ کھڑے ہیں اور جھوجھوم کر درود و سلام کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ، میں بھی اس دل نشین منظر میں گم ہوگیا، جب میری آنکھ کھلی تو وہ پرکیف نظارہ میری آنکھوں میں نقش تھا، دل عشقِ رسول میں بے قرار تھا، میں نے اسی وقت تہ دل سے ارادہ کر لیا کہ اب عاشقانِ رسول کی صف میں داخل ہو کر راہِ سنت اختیار کروں گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزّ َوَجَلَّیوں میں اس روح پرور خواب کے بعد مکمل طور پر مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ نیکی کی دعوت عام کرنا میری زندگی کا حصہ بن گیا اور علم دین کا شوق دل میں پید اہوگیا۔
کچھ دنوں بعد میں نے باب المدینہ کراچی حاضر ہوکر 26 روزہ کورس میں داخلہ لے لیا، دورانِ کورس میری قسمت کا ستارا چمک اُٹھا اور ایک دن شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں حاضری کا موقع مل گیا ، یوں جہاں آپ کی زیارت کی وہیں دست بوسی کا شرف بھی حاصل کیا، فیضان مدینہ کی پربہار فضاؤں میں بہت کیف وسرور مل رہاتھا، سوچ وفکر پر مدینے کی یادیں آبادرہنے لگیں ۔