پہنچ چکا تھا مگر میں اس سے محروم تھا، آوارہ گردی کرکے جب میں گھر میں داخل ہوتا تو گھر والے مجھے سمجھاتے اور راہِ سنت پر گامزن ہونے کی ترغیب دلاتے مگر میں انکی باتوں کوکسی خاطر میں نہ لاتااور جوئے کے اڈوں پر جانا ترک نہ کرتا جب گھروالے میری اصلاح سے ناامید ہوگئے تو مجھ سے ناراض رہنے لگے، مجھ پر کوئی توجہ نہ دیتا، مجھ سے کوئی پیار ومحبت سے بات نہ کرتا، ہرایک مجھ سے دور اور نفور رہتا، گھروالوں کا یہ رویہ دل پر بڑاشاق گزرتا، اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو اجنبی تصور کرتا۔
آخر کار اس رویے نے مجھے سدھرنے کی طرف راغب کردیا، ایک دن میں مبلغ دعوت اسلامی کے پاس پہنچا اور ان سے عرض کی کہ آپ لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں جس کی برکت سے بہت سے راہ راست پر آجاتے ہیں ، میں جوئے اور دیگر برائیوں کا عادی ہوں اور سدھرنے کا خواہش مند ہوں آپ میری رہنمائی کیجیے یہ سن کر ان اسلامی نے شفقت فرمائی اور بڑی محبت سے مجھے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے اور دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر اختیار کرنے کی دعوت پیش کی، میں ہاتھوں ہاتھ ان کے ساتھ 3دن کے مدنی قافلے کے لیے آمادہ ہوگیا، جب میں نے گھروالوں کو مدنی قافلے میں سفر کرنے کے حوالے سے بتایا تو سب حیران