Brailvi Books

دلوں کا چین
25 - 32
 شرافت بھی داغ دار ہورہی تھی، افسوس جوئے کی لت نے مجھے اس قدر بے حس بنادیا تھا کہ نہ مجھے اپنی عزت کا خیال تھا نہ ہی والدین کی آبرو کا احساس تھا، جوں جوں وقت گزررہاتھا میں ان بد اعمالیوں کاارتکاب کرکے اپنے لیے جہنم کا سامان کررہاتھا، میں یہ بھی بھول چکا تھا کہ ہرایک سانس مجھے زندگی سے دور اور موت کے قریب کررہی ہے، اگر اسی دوران ملک الموت (حضرت سیدنا عزرائیل عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)نے میری روح قبض کرلی اور میں توبہ کیے بغیر اندھیری قبر میں اتار دیا گیا تو میرا کیا بنے گا؟ مجھ پر چھائے غفلت کے سائے دور ہونے کا سبب کچھ یوں بنا، دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بہنیں ہمارے گھروالوں کو اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی دعوت دینے آتیں ، جس کی برکت سے ہمارے گھر میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا، گھر کی اسلامی بہنیں پابند سنت بن گئی، پہلے نمازوں کا اہتمام نہ تھا مگر اب نمازوں کی محافظت کرنے والی بن گئیں ، سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کا معمول بن گیا، بے پردگی اورشادی بیاہ کی غیر شرعی رسموں سے بچنے کا ذہن بن گیا، فلمیں ڈرامے دیکھناترک کردیا اور مدنی چینل کے ایمان افروز سلسلے دیکھنے لگیں یوں دعوتِ اسلامی والیوں کی نیکی کی دعوت کی برکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزّ َوَجَلَّہماراگھرانہ سنّت کا گہوراہ بن گیا، دعوت اسلامی کا فیضان ہمارے گھر میں