جو آزمائشوں پر پورا اتر تے ہیں صبر استقلال کا پہاڑ بنے رہتے ہیں مزید ان کے لیے خوشخبری سنائی گئی اور فرمایاگیا :
الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾
ترجمہ کنز الایمان: کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ۔(پ۲،البقرۃ:۱۵۶،۱۵۷)
حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ صبر تین ہیں :
(۱) مصیبت پر صبر (۲) عبادت پر صبر (۳) گناہ سے صبر، تو جو مصیبت پر صبر کرے یہاں تک کہ مصیبت کو اچھی تسلی سے دور کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تین سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّ اس کے لیے چھ سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہیٰ کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّ اس کے لیے نو سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ