Brailvi Books

دلوں کا چین
21 - 32
 سے کافی شفا پا چکا تھا ، نمازوں کی پابندی میرا معمول بن گئی، فلمیں ڈرامیں دیکھنے سے کنارا کشی اختیار کی، گانے باجے سننے سے بچنے لگا، فیشن پرستی چھوڑ کر سنّتِ رسول سے اپنا ظاہر سجالیا، سفید کرتا میرے لباس کا حصہ بن گیا، برہنہ سر پر سبز سبز عمامے شریف کا تاج سج گیا اور داڑھی شریف سے عاری چہرہ داڑھی شریف کے نور سے جگمگا اُٹھا، ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور مدنی قافلوں کا مسافربنتے رہنے کا ارادہ کرلیا، 
	مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے ابھی کچھ عرصہ گزراتھا کہ ایک بار پھر مدنی قافلہ یونیورسٹی سے روانہ ہوا، میری خوش قسمتی کہ میں دوبارہ راہ خدا کی برکات حاصل کرنے کے لیے اس قافلے کا مسافربن گیا، دورانِ قافلہ ایک دن میں تہجد کے وقت بیدار ہوااور وضو کرکے بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوگیا اور خوب گِڑ گڑا کر اپنی بیماری سے چھٹکارے کی دعا مانگی اور اس کے بعد میں سو گیا جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت ہشاش بشاش تھا، الرجی کی تکلیف کا نام ونشان تک نہ تھا ، یوں راہ خدا میں مانگی جانے والی دعا کی برکت کا ہاتھوں ہاتھ ظہور ہوا اور مجھے سکون کا سانس نصیب ہوگیا، سر کی آنکھوں سے برکاتِ مدنی قافلہ دیکھ کر دعوت اسلامی کی محبت و عقیدت میرے دل میں مزید بڑھ گئی، میں قافلے سے خوشی خوشی گھر لوٹا جب میں نے گھروالوں کو بتایا تو وہ بھی خوشی سے جھوم اُٹھے ، ایک دن ڈاکٹر