Brailvi Books

دلوں کا چین
19 - 32
سن 2006؁ء میں U.E.T لاہور کے الیکٹریکل انجینٔرنگ (Electrical Eng ) میں داخلہ لے لیا، جہاں میں برائی کی راہ پر چل پڑا، پڑھائی سے جو وقت بچتا اسے فلم بینی کی نذر کردیتا ، نمازوں کے اوقات آتے ، مسجد سے فلاح اور کامرانی کی دعوت دی جاتی مگر ہائے افسوس اس دعوت پر لَبَّیک کہہ کر ابدی سرمدی نعمتوں کا حقدار بننے اور آخرت کے عذابات سے بچنے کے بجائے غفلت کی گہری نیند سویا رہتا ، جہاں میں گناہوں کے موذی امراض کا شکار تھا وہیں کم و بیش ایک سال سے جلد کی انتہائی موذی بیماری میں مبتلا ہوگیا، اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا اور ان کے مجوزہ نسخے استعمال کیے مگر میں شفاسے محروم رہا، ڈاکٹروں کا کہناتھا کہ اس سے نجات کی صورت صرف ’’لیزر تھراپی‘‘ ہے، اس مرض کی وجہ سے میری زندگی کا سارا چین وقرار رخصت ہوچکاتھا، عیش وعشرت کے اسباب ہونے کے باوجود میں تکلیف سے دوچار تھا، گھروالے بھی میری وجہ سے پریشان تھے، آخر اس موذی مرض سے چھٹکار اپانے کی صورت کچھ یوں بنی ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی رہتے تھے، جو بڑے سنجیدہ، بااخلاق اور نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار تھے، ایک دن میرے پاس تشریف لائے، خندہ پیشانی سے سلام کیا اورمجھے دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوکر سنّتوں بھرے