{4}والدین کا نافرمان
ایک اسلامی بھائی کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے، دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں گناہوں کے دَلدل میں پھنسا ہوا تھا، مَعَاذَاللّٰہ عَزّ َوَجَلَّبلاناغہ شراب پینا، ماں باپ کو ستانا اور نمازیں قضا کرنا میرا مشغلہ تھا، یوں ہی میری زیست کے انمول لمحات گناہوں میں بیت رہے تھے کہ مجھے مدنی ماحول میسر آ گیا، سبب کچھ یوں ہوا کہ ایک مرتبہ میرے بھانجے نے مجھے دعوت اسلامی کے تحت سفر کرنے والے مدنی قافلے میں سفر کی دعوت پیش کی، پہلے تو میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور مجھ پر انفرادی کوشش جاری رکھی، اللّٰہ عَزّ َوَجَلَّکے فضل و کرم سے ان کی انفرادی کوشش رنگ لائی اور میں نے ماہِ محرم الحرام میں شہدائے کربلارِضْوَان اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْھِم اَجْمَعِیْن کے ایصالِ ثواب کی نیت سے مدنی قافلے میں سفر اختیار کر لیا، دورانِ مدنی قافلہ نیکی کی دعوت اور سنتوں بھرے بیانات سننے اور بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مختلف موضوعات پر مشتمل رسائل کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا، ان بیانات اور پر تاثیر تحریر کا مجھ گناہ گار پرایسا اثر ہوا کہ میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا۔ الغرض مدنی قافلے کی برکت سے مجھے اپنی