بھٹک رہا ہوتا، االلّٰہ عَزّ َوَجَلَّکابے حد شکر ہے کہ مجھے برے دوستوں اور برے کاموں سے نجات مل گئی۔ اب ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں خود بھی جانا اور دیگر کو نیکی کی دعوت دے کر ساتھ لے جانا میرامعمول بن گیا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے اخلاق بہتر سے بہتر ہوتے گئے، لوگوں کا کہنا ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل ہم آپ کے قریب آنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں تمہاری صحبت اختیار کرنے کی نحوست سے ہم اس عادت بد میں مبتلا نہ ہوجائیں مگر اب دل چاہتا کہ زیادہ سے زیادہ آپ کے پاس بیٹھیں اور میل جول قائم رکھیں ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزّ َوَجَلَّ یوں معاشرے میں ایک بار پھر میں عزت کی نظر سے دیکھا جانے لگا وہ لوگ جوکل تک مجھے نشے باز کہتے تھے اب دعوت اسلامی والا کہہ کرپکارنے لگے، تادمِ تحریر ذیلی حلقہ مشاورت نگران ہونے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتا، ہر ماہ تین دن کے مدنی قافلے میں سفرکرتا اور دیگر مدنی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہوں ۔
چھوڑیں بدمستیاں ، اور نشے با زیاں جامِ الفت پئیں ، قافِلے میں چلو
اے شرابی تو آ، آ جُواری تو آ سب سُدھرنے چلیں ، قافِلے میں چلو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شراب نوشی گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، قرآنِ پاک میں اس کی صراحتاً حرمت بیان کی گئی ہے۔