کی بُری لت کی تباہ کاریاں مجھے معلوم ہوگئیں اور عمل کا ایسا جذبہ قلب میں جاگزیں ہوا کہ میں نے دنیا وآخرت میں ذلیل ورسواکرنے والی شرابیوں کی دوستی کو ترک کرنے اور شاہراہ سنّت پر گامزن ہونے کا پختہ ارادہ کرلیا، داڑھی منڈوانے کے فعل حرام جہنم میں لے جانے والے کام سے توبہ کی اور چہرہ سنّت رسول سے سجالیا، عمامہ شریف میرے لباس کا حصہ بن گیا ، اور میں مکمل طور پر دعوت اسلامی سے وابستہ ہوگیا ۔
مدنی قافلے سے واپسی پرگھر پہنچا تو میرے سرپر عمامہ شریف کا تاج سجاہواتھا ، میری زندگی میں آنے والا مدنی انقلاب دیکھ کر گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، تمام گھر والوں نے مسکراتے اور خوش ہوتے ہوئے میراخیر مقدم کیا، والدہ کا چہرہ تو مجھے دیکھ کر مانند گلاب کھل اُٹھا، سب اہل خانہ فیضانِ دعوت اسلامی دیکھ کر اش اش کراُٹھے اور اس سنّتوں بھری تحریک کے محب بن گئے ، یوں میری نئی زندگی کا آغاز ہوا، میں نے اپنے موبائل فون سے تمام گانے ختم کردیئے اور نعت شریف اور امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیان ڈلوا لئے۔ پہلے ساراسارا دن گانے سنتے ہوئے بسر ہوتے تھے مگر اب نعت وبیان سن کر محظوظ ہونے لگا، میری قسمت اچھی تھی جو مجھے عاشقانِ رسول کا قرب مل گیا، جنّت کی تیاری کے لیے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول مل گیا ورنہ نجانے نشے کی وجہ سے کہاں