Brailvi Books

دلوں کا چین
10 - 32
 رہتے اور مجھ سے بات تک نہ کرتے، گھر والوں کو بھی مجھ سے دور رہنے کا کہتے، افسوس نہ مجھے والدین کی ناراضی کی فکر تھی نہ ہی اپنی دنیا و آخرت کی بربادی کا احساس تھا بس نشے میں مست رہنا میرا کام تھا، اس عادت قبیح نے مجھے گھر والوں اور عزیزوں کی نظروں میں حقیر کردیاتھا، لوگ مجھے سے کتراتے، دور بھاگتے، حتی کہ نشے کی عادت بد کی وجہ سے میرے ماموں نے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کرنے کافیصلہ کرلیا، جب والدہ کو ماموں کے فیصلے کے بارے میں علم ہوا توان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، اسی غم میں اکثر روتی رہتیں اور میری ہدایت کے لیے بارگاہ الٰہی میں دعائیں مانگتیں ، مگر افسوس میں شفیق ماں کی پرنم آنکھیں دیکھ کر بھی نشے کی عادت بد سے کناراکشی اختیار نہ کرتا۔ یوں ہی شب وروز ضائع ہورہے تھے آخر مجھ پر کرم ہوگیا والدہ کی دعاؤں کا اثرظاہر ہوا اور میں نشے کی تباہ کن عادت چھوڑنے میں کامیاب ہوگیا ہوا کچھ یوں کہ میری موبائل شاپ(دکان ) کے ساتھ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی کی دکان تھی، جو بااخلاق وباکردار تھے، مدنی ماحول کی برکت سے نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار تھے اسی مقدس جذبے کے تحت وہ جب نماز اداکرنے مسجد جاتے تو مجھے بھی نماز اداکرنے کے لیے مسجد ساتھ چلنے کی دعوت دیتے مگر میں آئیں بائیں شائیں کر تا اور ان کے ساتھ مسجد میں جاکر بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہونے سے محروم رہتا، مگر یہ مایوس نہ ہوتے اور