Brailvi Books

ڈاکوؤں کی واپسی
29 - 32
 جان خطرناک حادثہ کا شکار ہوجاتے مگر حسنِ اتّفاق کہ عین اسی وقت والدہ صاحبہ گھر کی بالائی منزل پر شجرہ عطاریہ شریف کے اَوراد میں سے جان و مال کی حفاظت کا وظیفہ  ’’بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَوُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ‘‘ کا وِرد کرنے لگیں ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وظیفے کی برکت کا ہاتھوں ہاتھ ظہور ہوا اور کرنٹ نے بھائی جان کو چھوڑ دیا اور وہ اس کی شدّت کے سبب دور جاکر گرے۔ ہم فوراً بھائی جان کی طرف دوڑے کہ نجانے انہیں کیا تکلیف پہنچی ہوگی مگر یہ دیکھ کر ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ بھائی جان کو آنچ تک نہ آئی بلکہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک حالت میں ہیں جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پھر جب ساری حقیقت سامنے آئی تو سب یہی کہنے لگے کہ امی جان جو اس وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی جان کے لئے جو امان طلب کر رہی تھیں بس اسی کی بدولت بھائی جان کی جان بچ گئی۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہے کہ ہمیں ایک پیرِ کامل کا دامن نصیب ہوگیا۔ 
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شعبہ امیرِ اہلسنّت 	مَجْلِس اَلمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ{دعوتِ اسلامی}
۴ ربیع الاول  ۱۴۳۶؁ھ بمطابق27 دسمبر 2014 ء