Brailvi Books

ڈاکوؤں کی واپسی
28 - 32
 میں حاضر ہوئے اور عرض کی: دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی۔ فرمایا: کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے۔ دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل و خوار ہوکر، طلوعِ فجر کے ساتھ سوبار کہا کر ’’سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ‘‘ (لسان المیزان، حرف العین، ۴/۳۰۴، حدیث: ۵۱۰۰) اُن صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سات دن گزرے تھے کہ خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’حضور! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی، میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں کہاں رکھوں !‘‘ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۱۲۸)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب ! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{16}اسمِ باری کی شان نرالی
	باب المدینہ (کراچی) کے علاقے کورنگی کی رہائشی اسلامی بہن اپنی آپ بیتی کچھ اس طرح تحریر کرتی ہیں : ایک روز بھائی جان بجلی کے مین سرکٹ میں تاروں کو پکڑے بجلی کا کام کر رہے تھے کہ اچانک بے دھیانی میں اُن کے ہاتھوں سے تار چھوٹ گیا، جس کے سبب انہیں زور دار کرنٹ لگا، چونکہ وہ مین لائن سے کرنٹ لگ رہا تھا لہٰذا کرنٹ نے انہیں پکڑ لیا اور نہ چھوڑا۔ قریب تھا کہ بھائی