اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کو اجازت ہے جو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{14}پریشانی، پریشانی نہ رہی
باب المدینہ (کراچی) کے علاقے بڑا بورڈ کی مقیم اسلامی بہن کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے معاشی حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ قرض لینے کی نوبت آپہنچی اور ہمیں مجبوراً قرضہ لینا پڑگیا، پھر ذرائع آمدن نہ ہونے اور ضروریات کی کثرت نے مزید قرضے لینے پر مجبور کردیا اور یوں ہم قرضوں تلے دبتے چلے گئے۔ چونکہ بظاہر ہمارے پاس کوئی ایسے اسباب نہ تھے کہ جن کی مدد سے ہم اپنے قرضے اتار پاتے اس لئے اس ذرِّکثیر کا لوٹانا ہمارے لئے مشکل ہوگیا اور ہم ایک عظیم آفت میں مبتلا ہوگئے۔ ہماری غیبی مدد کچھ اس طرح ہوئی کہ شجرۂ عطاریہ میں موجود قرضے سے خلاصی کے وظیفے کی طرف ہماری رہنمائی ہوگئی جو یہ ہے ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعِجْزِ وَ الْکَسَلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَالِ‘‘ (جوادائے قرض کے لئے صبح و شام گیارہ گیارہ بار پڑھا جاتا ہے)