ساتھ گھومتی ہوئی بچوں اور ان کے ابو کو جا لگیں ، مگر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مذکورہ وظیفے کی بدولت جان محفوظ رہی۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{13}نماز کی غفلت دور ہوگئی
باب المدینہ (کراچی) کی مقیم اسلامی بہن کا بیان کچھ اس طرح ہے کہ بد قسمتی سے نمازِ فجر میں سُسْتی کا دَورْ دَورَہ تھا۔ اوَّلاً تو نیند کی غفلت اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اگر کبھی قسمت سے آنکھ کھل جاتی تو سستی اور لاپرواہی آڑے آتی، یوں مَعَاذَاللّٰہ نماز قضا کر ڈالتی۔ میری اس غفلت کا پردہ کچھ اس طرح چاک ہوا کہ خوش قسمتی سے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سلسلۂ عالیہ کا شجرۂ مبارکہ میرے ہاتھ آیا تو اس کے وظائف پڑھنے کا معمول بنالیا۔ اس میں مذکور وظائف میں سے ایک وظیفہ سورۂ کہف کی آخری چار آیتیں (’’ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ (107) خَالِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبْغُوۡنَ عَنْہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾
(108) قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمَاتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیۡ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾ (109) قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا