برکتوں سے بھی بخوبی واقف ہوں ، لہٰذا میں نے شجرہ عطاریہ میں موجود وظائف میں سے ایک وظیفہ جو اسی مقصد کے لیے امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تحریر فرمایا ہے، اُسے پڑھنا شروع کردیا (وہ وظیفہ یہ ہے: ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعِجْزِ وَ الْکَسَلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَالِ‘‘ جوادائے قرض کے لئے صبح و شام گیارہ گیارہ بار پڑھا جاتا ہے)۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے میری ایسی غیبی مدد ہوئی کہ میرے وہ قرضے جوختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے صرف ایک مہینے میں ادا ہو گئے اور یوں مجھے سکھ کی زند گی مُیَسّر آگئی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرض سے نجات کا ایک وظیفہ حدیثِ مبارکہ میں بھی آیا ہے، مروی ہے کہ ایک مکاتِب (وہ غلام جس نے اپنے آقا سے مال کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کیا ہو) نے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: میں اپنی کتابت (یعنی آزادی کی قیمت) ادا کرنے سے عاجز ہوں میری مدد فرمائیے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے سکھائے ہیں ، اگر تم پر جَبَلِ صیر (صیر ایک پہاڑ کا نام ہے) جتنا دَین (یعنی قرض) ہوگا تو اللّٰہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادا کردے گا تم یوں کہا کرو: ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ