Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
99 - 132
ہوں اگر مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے تودو رکعت پڑھتا ہوں اورانکی قبر کے پاس جاکراللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو جلد حاجت پوری ہوجاتی ہے۔‘‘(1)
سوال:بعض لوگ کہتے ہیں کہ عُرس پر غیر شرعی کاموں کا ارتکاب کیا جاتا ہے لہٰذا وہاں جانا اور عُرس منانا جائز نہیں،یہ کہاں تک درست ہے؟
جواب:اَلْـحَمْـدُ لـِلّٰـهِ عَزّ  َوَجَلَّعُرس کا مسئلہ قرآن وحدیث، صحابۂ کرام اور اولیا ء صالحین کے عمل سے واضح ہوچکا ہے اور ہماری مُراد بھی وہی عُرس ہیں جو شریعتِ مطہرہ کے مطابق منائے جاتے ہیں۔ہاں!غیرشرعی اُمور تو وہ ہر جگہ ناجائز ہیں اور یہ ناجائز کام عُرس کے علاوہ بھی ہوں تو ناجائز ہیں اور شریعت کے احکام کی معمولی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا مسلمان انہیں جائز نہیں کہہ سکتا،ان خُرافات سے دور رہنا چاہیے اور حتّی المقدور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس سے بچانا چاہیے۔
سوال:کسی بزرگ کے نام کا جانور ذبح کرنا کیسا؟
جواب:کسی  بزرگ کے نام کا جانور ذبح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں جبکہ ذبح کرتے وقت اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کانام لیکر ذبح کیا جائے۔کیونکہ اگر ذبح کے وقت  اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا تو وہ جانور حرام ہوجائے گا لیکن کوئی مسلمان اس طرح نہیں کرتا، ہمارے یہاں لوگ عموماً جانور خریدتے یا پالتے وقت کہہ دیتے ہیں کہ یہ گیارہویں شریف کا بکرا ہے یا فلاں بزرگ کا بکرا ہے یا گائے ہے جسے بعد میں اس موقع پر ذبح کردیاجاتا ہے، اورذبح کے وقت اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام ہی لیا جاتا ہے اور اس ذبح سے مقصود اس بزرگ کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ردالمحتار ، مقدمة الکتاب، مطلب یجوز تقلید المفضول مع وجود الافضل،۱/۱۳۵