سوال:اس کے جائز ہونے کی کیا دلیل ہے؟
جواب:بزرگانِ دین کے ا َعراس میں ذکرُ اللّٰہ،نعت خوانی اور قرآنِ پاک کی تلاوت اور اس کے علاوہ دیگر نیک کام کر کے ان کو ایصالِ ثواب کیا جاتاہے اور ایصالِ ثواب کے جائز اور مستحسن ہونے کے دلائل اوپر ذکر کئے جاچکے ہیں ۔
سوال:مزارات پر حاضر ہونے کا کیا ثبوت ہے؟
جواب:مزارات پر حاضری دینا زمانہ ٔ قدیم سے مسلمانوں میں رائج ہے بلکہ خود رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہر سال شُہداءِ اُحُد کے مزارات پر برکات لُٹانے کیلئے تشریف لاتے تھے۔علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِلکھتے ہیں کہ ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہےکہ حضور سیّدِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم شُہداءِ اُحُد کے مزارات پر ہر سال کے شروع میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔(1)
سوال:بزرگانِ دین کے مزار پر کیوں جاتے ہیں اس ضِمْن میں کوئی واقعہ ہو تو وہ بھی ارشاد فرمادیں؟
جواب:اولیاء اللّٰہرَحِمَھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰیکے مزارات پر جانا باعثِ برکت اور رفعِ حاجات کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اولیاءِ کرام کی قبور پرجاتے اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی حاجات کیلئے دعا کرتے جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس بارے میں مقدمۂ ردُّ المحتار میں امام شافعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نقل فرماتے ہیں:’’ میں امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے برکت حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر پر آتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی زیارة القبور،۳/۱۷۷