(۱) وَ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ﴿۱۶۳﴾٪(پ ،البقرة:١٦٣ )
(۲) اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ (پ ٨،الأعراف:٥٦ )
(۳) وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ (پ ١٧،الأنبياء:١٠٧)
(۴) مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا (پ ٢٢،الأحزاب:٤٠)
(۵) اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا (پ ٢٢،الأحزاب:٥٦)
اب درود شریف کے بعد پڑھے:سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾ۚ وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ (پ ٢٣،الصّٰفّٰت:١٨٠ تا ١٨٢) پھر ایصالِ ثواب کرے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کسی بزرگ کا عُرس منانا
سوال:عُرس کسے کہتے ہیں؟
جواب: کسی بزرگ کی یاد مَنانے کے لئے اور ان کو ایصالِ ثواب کرنے کے لئے ان کے مُحبّین ومریدین وغیرہ کا ان کی یومِ وفات پر سالانہ اجتماع ’’عُرس‘‘کہلاتا ہے۔
سوال:کسی بزرگ کا عُرس منانا کیسا؟
جواب:بزرگانِ دین اولیاءِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کا عُرس منانے سے مقصود ان کی یا د منا نا اور ان کو ایصالِ ثواب کرنا ہوتا ہے اس لئے ان کے عُرس کا انعقاد کرنا شرعاً جائز و مستحسن اور اجر وثواب کا ذریعہ ہے ۔