بھی ہیں ،آپ نے کمالِ مُسرّت واِلتِفات فرمایا اور انہیں طلب فرمایا اور کچھ آپ نے تَناوُل فرما یا اور کچھ آپ نے اَصحاب میں تقسیم کردیا۔(1)
سوال:کیا ایصالِ ثواب کسی مقررہ دن ہی کرنا چاہیے یا کسی بھی دن ہو سکتا ہے؟
جواب:ایصالِ ثواب کے لئے نہ کسی وقت کو معیّن کرنا ضروری ہے نہ کسی عمل کو۔ بغیر کسی قید کے جب بھی چاہیں ،کو ئی نیک عمل کرکے میّت کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں،چاہے کوئی صدقہ کرے یا مدرسہ ومسجد بنا دے ،میّت کی طرف سے حج کرے ،قرآنِ پاک کی تلاوت کرکے ثواب پہنچائے یہی کام کسی دن کو معیّن کرکے کئے جائیں اس میں بھی حرج نہیں کہ دن معیّن کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ جمع ہوجائیں اور اہتمام کے ساتھ عملِ خیر کیا جائے تعیین شرعاً منع نہیں ہے جیساکہ نمازِ باجماعت میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایک وقت مُقرّر کردینا ،کسی دینی اجتماع مَحافل یا شادی بیاہ وغیرہ کے لئے دن و تاریخ معیّن کردینا جائز ہے۔ ہاں البتہ اسی تعیین کو ضروری سمجھنا کہ اس کے بغیر ایصالِ ثواب نہ ہو گا یہ درست نہیں جاہلانہ خیال ہے اس سے باز رہنا ضروری ہے۔
سوال:تیجہ ،دسواں ،چالیسواں کیا ہیں؟
جواب:فوت شُدہ مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے عموماً قرآن خوانی اور محفلِ ذکر و نعت کا اہتمام کیا جاتاہے نیز کھانا وغیرہ بھی پکاکر تقسیم کیا جاتا ہے، اگر اس طرح کا اہتمام فوت ہونے کے دوسرے روز ہوتو اسے دوجہ ،تیسرے روز ہوتو تیجہ ،دسویں روز ہوتو دسواں، چالیسویں روز ہوتو چالیسواں یا چہلم اور سال کے بعد ہوتو برسی کہتے ہیں ایک دو دن آگے پیچھے بھی ہوجائیں تو دسواں بیسواں یا چالیسواں ہی کہلاتا ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…انفاس العارفین ،ص۷۶