Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
91 - 132
سے ایک طاق آسمان کی طرف بنادو حتّٰی کہ قبرِانور اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے تو لوگوں نے ایسا کیا تو خوب برسائے گئے حتّٰی کہ چارہ اُگ گیا اور اونٹ موٹے  ہوگئے حتّٰی کہ چربی سے گویا کہ پھٹ پڑے تو اس سال کا نام پھٹن کا سال رکھا گیا۔‘‘(1) 
سوال:کیا توسّل کے حوالے سے آئمّہ مجتہدین کے واقعات بھی ملتے ہیں؟
جواب:جی ہاں!آئمّہ اربعہ ودیگر فقہائے کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیبھی بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں:
امامِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عمل:امامِ اعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے مشہور قصیدہ نعمانیہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں:
اَنْتَ الَّذِی لَمَّا تَوَسَّلَ بِکَ اٰدَمُ 		 مِنْ زِلَّۃٍ فَازَ وَھُوَ اَ بَاکَا
یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہی وہ ہیں جب حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام نے آپ کو وسیلہ بنایا تو وہ کامیاب ہوئے قبولیّتِ دُعا سے حالانکہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے والد تھے۔
امامِ شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عمل:امامِ شافعیرَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِبھی اللّٰہتعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنے کے قائل تھے ،چُنانچہ خطیب بغدادیرَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل فرماتے ہیں :حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے توسّل کرتے، ان کی قبر پر حاضر ہوکر زیارت کرتے، پھر اپنی حاجت پوری ہونے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں وسیلہ بناتے۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… دارمی،مقدمة،باب ما أكرم الله تعالى نبيه بعد موته، ۱/۵۶، حدیث:۹۲، مشکوة المصابیح، ۲/۴۰۰، حدیث:۵۹۵۰ 
2…تاریخ بغداد،باب ما ذكر فی مقابر بغداد المخصوصة،۱/۱۳۵