وسیلہ سے توجہ کرتا ہوں جو نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہیں ،یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں تو اسے پوری فرمادے۔ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!میرے بارے میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت قبول فرما(1) (راوی بیان فرماتے ہیں )کہ وہ شخص جب آپ کے فرمانے کے مطابق دعاکرکے کھڑا ہوا وہ آنکھ والا ہوگیا ۔(2)
سوال:کیا دنیا سے رِحلت کرجانے والوں سے توسّل جائز ہے؟
جواب:علماءِ کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیفرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی محبوب ہستیوں سے توسّل جائز ہے خواہ وہ دُنیاوی زندگی میں ہوں یا بَرزخی زندگی کی طرف منتقل ہوچکے ہوں۔
سوال:اس کی کیا دلیل ہے کہ وفات کے بعد بھی کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا جائزہے؟
جواب:اس کے ثبوت میں کئی روایات پیش کی جاسکتی ہیں،اوپر نابینا کے توسّل کرنے کے بارے میں جو حد یث بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں حدیث کی مُستَنَد کتابوں میں ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا سے وصالِ ظاہری فرمانے کے بعد بھی لوگوں کو اس پر عمل کی تعلیم دیا کرتے تھے۔(3)
اسی طرح مشکوٰ ۃ بابُ الکرامات میں حضرت ابو الجوزاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے، فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے شکایت کی انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی قبر کی طرف غور کرو اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،احادیث شتی،باب ۱۱۸، ۵/۳۳۶،حدیث:۳۵۸۹
2… معجم کبیر، ۹ /۳۱، حدیث: ۸۳۱۱
3… مجمع الزوائد،کتاب الصلاة، باب صلاة الحاجة ، ۲/۵۶۵،حدیث:۳۶۶۸