کے لئے ان محبوب ہستیوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے ، اللّٰہ تعالیٰ ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتاہے۔
سوال:انبیاءِ کرامعَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظامرَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیسے توسّل کا کیا حکم ہے؟
جواب:دُنیاوی اور اُخروی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان سے توسّل شرعاً جائز ہے۔
سوال:توسّل کرنا یعنی وسیلہ بنانے کا کیا ثبوت ہے؟
جواب: وسیلہ بنانا قرآن وسنّت اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے،چُنانچہ
آیتِ مبارکہ: اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ(پ٦،المائدة:٣٥)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!اللّٰه سےڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
حدیثِ پاک:سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے خود ایک نابینا شخص کو ایک دعاکے ذریعے وسیلہ کی تعلیم ارشاد فرمائی، چُنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے :ایک نابینا بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم میں حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آنکھ والا کردے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے دعا کروں اور اگر تو چاہے تو صبر کرکہ وہ تیرے لیے بہتر ہے۔ عرض کی کہ دعا فرمائیں، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اسے حکم دیاکہ اچھا وضو کرو، دور کعت نمازپڑھو اور یہ دعا کرو :اے اللّٰہ میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے