جواب: اللّٰہتعالیٰ کی عطا سے انبیائے کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی مدد فرماتے ہیں اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ سورۃُ التحریم پارہ 28 کی آیت 4 میں اللّٰہتعالیٰ کا فرمان ہے: فَاِنَّ اللہَ ہُوَ مَوْلٰىہُ وَ جِبْرِیۡلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ ﴿۴﴾(پ٢٨،التحريم:٤)
تو بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔
حدیث شریف میں حضرت سیّدُنا عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پُر نورسیّدُ العالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے اور مدد چاہے اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے : اے اللّٰہکے بندو! میری مدد کرو، اے اللّٰہکے بندو! میری مدد کرو ،کہ اللّٰہکے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔‘‘(1)
سوال:کیا انبیاءِ کرام اوراولیاء اللّٰہسے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگی جاسکتی ہے؟
جواب:جی ہاں !جس طرح زندگی میں ان سے توسّل کرنا اور مددمانگناجائز ہے اسی طرح ان کے وصال کے بعد بھی جائز ہے۔ اللّٰہتعالیٰ کے پیارے نبی اور ولی اپنی قبور میں زندہ ہوتے ہیں۔
سوال:مدد فرمانے کے ثبوت میں کوئی واقعہ ہو تو بیان کریں ؟
جواب:اس پر ایک نہیں بلکہ بے شمار واقعات ذکر کئے جا سکتے ہیں ،یہاں ایک واقعہ ملاحظہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… معجم کبیر،۱۵/۱۱۷،حدیث:۲۹۰