Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
86 - 132
بعض انکار کرنے والے اس عقیدۂ حقّہ ثابتہ سے غافل ہونے کی بناء پر بھی انکار کرتے ہیں اور بعض جانتے بوجھتے عِنادًا انکار کرتے ہیں اور فضائلِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے چڑتے ہیں اللہ تعالی ایسوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
 استِمداد واستِعانت
سوال:استمداد واستِعانت سے کیا مُراد ہے؟
جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّکو حقیقی مددگار جانتے ہوئے انبیائے کرام عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَاماور اولیاء اللّٰہ رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیسے مدد مانگنا ’’استمداد‘‘کہلاتاہے اور ’’استِعانت‘‘کا بھی یہی مطلب ہے۔
سوال:کیاانبیائے کرام عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَاماور اولیاء اللّٰہ رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیسے مدد مانگی جاسکتی ہے؟
جواب:انبیائے کرام عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَاماور اولیاء اللّٰہسے مدد مانگنا بلا شبہ جائز ہے جبکہ عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی امداد تو ربّ تعالیٰ ہی کی ہے اور یہ سب حضرات اس کی دی ہوئی قدرت سے مدد کرتے ہیں کیونکہ ہر شے کا حقیقی مالک و مختار صرفاللّٰہ تعالیٰ ہی ہے اوراللّٰہتعالیٰ کی عطا کے بغیر کوئی مخلوق کسی ذرّہ کی بھی مالک و مختار نہیں ہو تی ۔ اللّٰہتعالیٰ نے اپنی خاص عطا اور فضلِ عظیم سے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو کونین کا حاکم و مختار بنایا ہے اور حضو ر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اور دیگر انبیائے کرام واولیائے عِظام اللّٰہتعالیٰ کی عطا سے(یعنی اس کی دی ہوئی قدرت سے)مدد فرما سکتے ہیں۔
سوال:اس کی کیا دلیل ہے؟