سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت نے بآوازِ بلند کہا: ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘ فوراً پاؤں کھل گیا۔(1)
حضرت سیّدنا عبد اللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عمل:
شارحِ صحیح مسلم امام نووی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کتاب الاذکار میں اس کی مثل حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس کسی آدمی کا پاؤں سو گیا تو عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: تو اس شخص کو یاد کر جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے تو اس نے ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘ کہا، اچھا ہو گیا ۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور یہ اَمر ان دو صحابیوں کے سوا اَوروں سے بھی مَروی ہوا ۔ اہلِ مدینہ میں قدیم سے اس ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘ کہنے کی عادت چلی آتی ہے۔(2)
فائدہ :اہلسنّت وجماعتِ اہلِ حق کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام اپنے مزاراتِ طیّبہ میں زندہ ہیں انھیں روزی دی جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف سے بھی یہ بات ثابت ہے تو سیّد الانبیاء کی حیات میں پھر کیسے شبہ ہوسکتا ہے اس لحاظ سے یارسولَ اللہ کہہ کر پکارنے کے جواز میں کسی قسم کا شک کیا ہی نہیں جاسکتا ہے کہ اللہ کی عطا سے زندہ بھی ہیں اور فریاد کرنے والے کی فریاد سنتے بھی ہیں اور اللہ کی عطا سے مدد کرنے پر قادر بھی ہیں تو ان تمام باتوں میں سے کوئی بات خلافِ شرع نہیں سب جائز و درست اور علمائے حق کی تصریحات سے ان کا جواز ثابت ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الشفاء،فصل فيما روى عن السلف والأئمة (من محبتهم للنبى صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم وشوقهم له)، جزء۲،ص۲۳
2… فتاویٰ رضویہ ،۲۹/۵۵۲