نماز میں ہر مسلمان کا عمل :
ہر نماز کے تَشَہّد میں مسلمان التحیات پڑھتے ہیں اور التحیات میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو پکارا جاتا ہے بلکہ یہ پکارنا واجب ہے ۔
سوال:قرآنِ مجید اور حدیثِ پاک میں تو رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو ان کی حیاتِ ظاہری میں پکارنے کا ذکر ہے،کیا حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی پکارنا ثابت ہے ؟
جواب:جی ہاں!آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سلف صالحین آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو پکارتے رہے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل تو ابھی التحیات کے ضمن میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو پکارنے کی گزرچکی۔ نیز حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں نبوّت کے جھوٹے دعویدارمسیلمہ کذّاب کے خلاف مسلمانوں اور مُرتدّین کے درمیان جنگِ یمامہ ہوئی جس میں مسلمانوں کا نعرہ ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘ تھا۔(1)
سوال:کیابزرگانِ دین بھی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو پکارا کرتے تھے؟
جواب: جی ہاں!
حضرت سیّدنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عمل:
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا پاؤں سو گیا، کسی نے کہا: انہیں یا د کیجیے جو آپ کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ الطبری،ذكر بقية خبر مسيلمة الكذاب …الخ،۲/۲۸۱