Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
83 - 132
(حصّۂ دوم) معمولاتِ اہلسنّت
ندائے یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سوال: کیاہم اپنے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو یارسولَ اللّٰہ، یا نبیَّ اللّٰہ کہہ کر پکار سکتے ہیں،ایسا کرناشرک تو نہیں؟
جواب:نبیوں کے سرور، محبوبِ ربِّ داور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو یارسولَ اللّٰہ، یا نبیَّ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم وغیرہ الفاظ و القاب کے ساتھ نزدیک و دُور سے پکارنا بالکل جائز ہے،ہرگز شرک نہیں ۔
سوال:اس کی کیا دلیل ہے؟
جواب:قرآنِ مجید سے ثبوت:
قرآنِ کریم میں بہت سے مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو نداء فرمائی۔ (یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ)، (یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ)،(یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ)،( یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ) وغیرہ ان تمام آیات میں  حرفِ ندا ’یا‘ کے ساتھ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو خطاب فرمایا ہے۔ 
حدیثِ مبارک:
صحیح مسلم میں حضرت سیّدُنا بَراء  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ہے جوحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے مدینۂ پاک میں داخلے کا منظر بیان کرتے  ہوئےفرماتے ہیں: ’’عورتیں اور مرد گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور غلام گلی کوچوں میں متفرّق ہو گئے۔ نعرے لگاتے پھرتے تھے، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق، باب فی حدیث الھجرة…الخ،ص۱۶۰۸، حدیث:۲۰۰۹