Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
81 - 132
میں اُڑنا، جمادات یعنی بے جان چیزوں اور حیوانات سے کلام کرنا، بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالنا، دور دراز کے حالات ان پرظاہر ہونا۔ اولیاء کی کرامتیں درحقیقت ان انبیا ء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے معجزات ہیں جن کے وہ اُمّتی ہوں۔
سوال:کرامت کسے کہتے ہیں؟ 
جواب:اولیاء اللّٰہ سے جو بات خلافِ عادت ظاہر ہو اسے’’کرامت‘‘کہتے ہیں۔
سوال:کیا ولی وہی ہے جس سے کرامت ظاہرہو؟
جواب: اکثراولیاءِ کرام سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں ،اولیاءِ کرام اپنی ولایت اور کرامات کو چھپاتے ہیں ،ہاں جب اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے حکم پاتے ہیں تو ظاہر کردیتے ہیں ۔اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ جس سے کرامت ظاہر نہ ہو وہ ولی ہی نہیں۔
سوال:کیا کسی ولی سے بعدِ وصال بھی کرامت ظاہر ہوسکتی ہے؟
جواب:جی ہاں۔اولیاءِ کرام کے انتقال کے بعد بھی ان کی کرامات ظاہر ہوتی ہیں جسے ہر آنکھ والا دیکھتا اور مانتاہے۔
سوال:کیا کسی فاسق وفاجر سے بھی کرامت کا ظہور ہوسکتا ہے؟
جواب:جی نہیں۔
سوال:چند ایک مشہور اولیاءِ کرام کے نام بتا دیجئے ؟
جواب:حضور غوثِ اعظم سیّدُنا عبدُالقادر جیلانی،حضرت داتا گنج بخش ہجویری، حضرت خواجہ شہابُ الدین سہروردی،حضرت خواجہ مُعینُ الدین چشتی،اعلیٰ حضرت اما م احمد رضا خان رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
سوال:اولیائے کرام سے ہمیں ملتا کیاہے ؟