Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
80 - 132
جواب: اللّٰہ کے وہ مقبول بندے جو اس کی ذات و صفات کی معرفت رکھتے  ہوں، اس کی اطاعت و عبادت کے پابند رہیں، گناہوں سے بچیں ، انہیں اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنا قربِ خاص عطا فرمائے ان کو’’اولیاء اللّٰہ ‘‘کہتے ہیں۔
سوال:ولایت کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟
جواب:ولایت یعنی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مُقرّب و مقبول بندہ ہونا محض اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عطیہ ہے جو کہ مولیٰ کریم عَزَّ  وَجَلَّ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ ہاں عبادت و ریاضت بھی کبھی کبھی اس کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بعضوں کو ابتداءً بھی مل جاتی ہے۔
سوال:کیا بے علم بھی ولی بن سکتا ہے؟
جواب:نہیں ،ولایت بے علم کو نہیں ملتی ۔ولی کے لئے علم ضروری ہے خواہ ظاہر حاصل کرے یا اس مرتبہ تک پہنچنے سے پہلے ہی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا سینہ کھول دے اور وہ عالِم بن جائے۔
سوال:اگر کوئی شخص شریعت پر عمل نہ کرے تو کیا وہ ولی بن سکتا ہے ؟
جواب: جب تک عقل سلامت ہے کوئی کیسے ہی بڑے مرتبے کا ہو احکامِ شریعت کی پابندی سے ہرگز آزاد نہیں ہوسکتا اور جو خود کو شریعت سے آزاد سمجھے ولی نہیں۔
سوال:جو ایسے شخص کو ولی سمجھے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:وہ گمراہ ہے۔
سوال:اولیاءِ کرام کیا کچھ کرسکتے ہیں؟
جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے اولیاءِ کرام بہت کچھ کرسکتے ہیں،ان سے عجیب و غریب کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں مثلاً آن کی آن میں مشرق سے مغرب میں پہنچ جانا، پانی پر چلنا، ہوا