باتیں کفر ، اسی طرح اکثر باتوں میں قرآن مجید کی آیتیں بے موقع پڑھ دیا کرتے ہیں اور مقصود ہنسی کرنا ہوتا ہے جیسے کسی کو نماز جماعت کے لیے بلایا، وہ کہنے لگا میں جماعت سے نہیں بلکہ تنہا پڑھونگا، کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: (اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی)(پ٢١،العنكبوت:٤٥)
سوال:مَزامیر کے ساتھ قرآن پڑھنا کیسا؟
جواب: مَزامیر کے ساتھ قرآن پڑھنا کفر ہے۔
نماز ،اذان،روزہ وغیرہ سے متعلق کفریہ کلمات
سوال:نماز سے متعلق چند کفریہ کلمات بتادیجئے؟
جواب: کسی سے نماز پڑھنے کو کہا: اس نے جواب دیا نماز پڑھتا تو ہوں مگر اس کا کچھ نتیجہ نہیں یا کہا: تم نے نماز پڑھی کیا فائدہ ہوا یا کہا: نماز پڑھ کے کیا کروں کس کے لیے پڑھوں ماں باپ تو مر گئے یا کہا: بہت پڑھ لی اب دل گھبرا گیا یا کہا: پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے غرض اسی قسم کی بات کرنا جس سے فرضیت کا انکارسمجھا جاتا ہو یا نماز کی تحقیر ہوتی ہو یہ سب کفر ہے۔
کوئی شخص صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہے بعد میں نہیں پڑھتا اور کہتا یہ ہے کہ یہی بہت ہے یا جتنی پڑھی یہی زیادہ ہے کیونکہ رمضان میں ایک نماز ستّر نماز کے برابر ہے ایسا کہنا کفر ہےاس لیے کہ اس سے نماز کی فرضیت کا انکارمعلوم ہوتا ہے۔
سوال: اذان کی آواز سُن کر یہ کہنا کہ کیا شور مچا رکھا ہے کیسا ہے؟
جواب: اگر یہ قول بَروَجہ انکار ہو کفر ہے۔
سوال: روزہ وہ رکھے جسے کھانا نہ ملے یہ کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: روزۂ رمضان نہیں رکھتا اور کہتا یہ ہے کہ روزہ وہ رکھے جسے کھانا نہ ملے یا کہتا ہے