جواب: انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَامکی توہین کرنا، ان کی جناب میں گستاخی کرنا یا ان کو فَواحش و بے حیائی کی طرف منسوب کرنا کفر ہے، مثلاً معاذاﷲ یوسف عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام کو زنا کی طرف نسبت کرنا۔
سوال: نبی اکرم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کو خاتمُ النّبیین نہ جاننے والے نیز آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم سے منسوب اشیاء کی توہین کرنے والے کے بارے میں کیاحکم ہے ؟
جواب: جو شخص حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کو تمام انبیا میں آخر نبی نہ جانے یا حضور (صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم) کی کسی چیز کی توہین کرے یا عیب لگائے، آپ کے موئے مبارک کو تحقیرسے یاد کرے، آپ کے لباس مبارک کو گندہ اور میلا بتائے، حضور (صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم) کے ناخن بڑے بڑے کہے یہ سب کفر ہے، بلکہ اگر کسی کے اس کہنے پر کہ حضور (صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم) کو کدّو پسند تھا کوئی یہ کہے مجھے پسند نہیں تو بعض علما کے نزدیک کافر ہے اور حقیقت یہ کہ اگر اس حیثیت سے اُسے ناپسند ہے کہ حضور (صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم) کو پسند تھا تو کافر ہے۔ یوہیں کسی نے یہ کہا کہ حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کھانا تناول فرمانے کے بعد تین بار اَنگشت ہائے مبارکہ چاٹ لیا کرتے تھے، اس پر کسی نے کہا: یہ ادب کے خلاف ہے یا کسی سنّت کی تحقیر کرے، مثلاً داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا، عمامہ باندھنا یا شملہ لٹکانا، ان کی اِہانت کفر ہے جبکہ سنّت کی توہین مقصود ہو۔
سوال: اپنے آپ کو پیغمبر کہنے والے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اب جو اپنے کو کہے میں پیغمبر ہوں اور اسکا مطلب یہ بتائے کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں وہ کافر ہے یعنی یہ تاویل مَسموع نہیں کہ عُرف میں یہ لفظ رسول و نبی کے معنی میں ہے۔