Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
61 - 132
کیا مثلاً وہ خود کہتا ہے کہ میری مُراد یہی ہے تو کلام کا محتمل ہونا نفع نہ دیگا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کلمہ کے کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضرور نہیں۔  آج کل بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے کافر نہ کہیں گے یہ بالکل غلط ہے کیا یہود ونصاریٰ میں اسلام کی کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ قرآنِ عظیم میں انھیں کافر فرمایا گیا۔
بلکہ بات یہ ہے کہ علما نے فرمایا یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان نے ایسی بات کہی جس کے بعض معنی اسلام کے مطابق ہیں تو کافر نہ کہیں گے اس کو ان لوگوں نے یہ بنا لیا۔ ایک یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ’’ہم تو کافر کو بھی کافر نہ کہیں گے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو گا ‘‘یہ بھی غلط ہےقرآنِ عظیم نے کافر کو کافر کہا اور کافر کہنے کا حکم دیا۔ (قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾) (پ٣٠،الكافرون:١)اور اگر ایسا ہے تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمہیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے مگر شریعت نے کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے اگر کافر کو کافر نہ جانا جائے تو کیا اس کے ساتھ وہی معاملات کروگے جو مسلم کے ساتھ ہوتے ہیں حالانکہ بہت سے اُمور ایسے ہیں جن میں کفار کے احکام مسلمانوں سے بالکل جدا ہیں مثلاً ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، ان کے لیے استغفار نہ کرنا، ان کو مسلمانوں کی طرح دفن نہ کرنا، ان کو اپنی لڑکیاں نہ دینا، ان پر جہاد کرنا، ان سے جِزْیَہ لینا اس سے انکار کریں تو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ۔ 
بعض جاہل یہ کہتے ہیں کہ’’ہم کسی کو کافر نہیں کہتے، عالِم لوگ جانیں وہ کافر کہیں‘‘ مگر کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ عوام کے تو وہی عقائد ہونگے جو قرآن و حدیث وغیرہما سے علما نے انھیں بتائے یا عوام کے لیے کوئی شریعت جُدا گا نہ ہے جب ایسا نہیں تو پھر عالمِ دین کے