786 پاکستانی روپے سے زائد تو نہیں) تو ا ب مذکورہ گواہوں کی موجودگی میں آپ ’’اِیجاب‘‘ کیجئے یعنی عورت سے کہئے :’’میں نے 786 پاکستانی روپے مہَر کے بدلے آپ سے نکاح کیا۔‘‘ عورت کہے :’’میں نے قبول کیا۔‘‘نکاح ہو گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت ہی خُطبہ یا سورۂ فاتِحہ پڑھ کر’’اِیجاب‘‘ کرے اور مَرد کہے:’’میں نے قبول کیا‘‘، نکاح ہو گیا ۔ بعدِ نکاح اگر عورت چاہے تو مَہر مُعاف بھی کر سکتی ہے ۔ مگر مَرد بِلاحاجتِ شرعی عورت سے مَہر مُعاف کرنے کا سوال نہ کرے ۔
سوال:مُرتد کے ذَبیحہ کا کیا حکم ہے ؟
جواب: مُرتد کا ذَبیحہ مُردار ہے اگرچہ بِسْمِ اللہ کرکے ذبح کرے۔ یوہیں کُتّے یا باز یا تیر سے جو شکار کیا ہے وہ بھی مُردار ہے، اگرچہ چھوڑنے کے وقت بِسْمِ اللہ کہہ لی ہو۔
سوال:مُرتد کی گواہی اور اس کے وارث بننے کے متعلق کیا شرعی حکم ہے ؟
جواب: مُرتد کسی معاملہ میں گواہی نہیں دے سکتا اور کسی کا وارث نہیں ہو سکتا اور زمانۂ ارتدار میں جو کچھ کمایا ہے اس میں مُرتد کا کوئی وارث نہیں۔
سوال:مُرتد کے مال کا کیا حکم ہے ؟دوبارہ اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں کیا حکم ہو گا؟
جواب: اِرتدادسے مِلک جاتی رہتی ہے یعنی جو کچھ اس کے اَملاک و اَموال تھے سب اس کی مِلک سے خارج ہو گئے مگر جبکہ پھر اسلام لائے اور کفر سے توبہ کرے تو بدستور مالک ہو جائیگا اور اگر کُفر ہی پر مَر گیا یا دارُالحرب کو چلا گیا تو زمانۂ اسلام کے جو کچھ اموال ہیں ان سے اوّلاً ان دُیون کو ادا کرینگے جو زمانۂ اسلام میں اس کے ذِمّہ تھے اس سے جو بچے وہ مسلمان وُرَثَہ کو ملے گا اور زمانۂ اِرتداد میں جو کچھ کمایا ہے اس سے زمانۂ اِرتداد کے دُیون ادا