عورت راضی ہو تو دوبارہ اس سے نکاح ہو سکتاہے ورنہ جہاں پسند کرے نکاح کر سکتی ہے اس کا کوئی حق نہیں کہ عورت کو دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دے اور اگر اسلام لانے کے بعد عورت کو بدستور رکھ لیا دوبارہ نکاح نہ کیا تو قربت زنا ہوگی اور بچے ولدُالزّنا اور اگر کفرِ قطعی نہ ہو یعنی بعض علما کافر بتاتے ہوں اور بعض نہیں یعنی فقہاکے نزدیک کافر ہو اور متکلمین کے نزدیک نہیں تو اس صورت میں بھی تجدید ِاسلام و تجدید ِنکاح کا حکم دیا جائیگا۔
سوال:عورت مُرتد ہو گئی تواسکے نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: عورت مُرتد ہوگئی پھر اسلام لائی تو شوہرِ اول سے نکاح کرنے پر مجبور کی جائے گی یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ دوسرے سے نکاح کرے اسی پر فتوی ہے۔
سوال:مُرتد کے نکاح کا کیا حکم ہے ؟اسکا نکاح کس سے ہوسکتا ہے؟
جواب: مُرتد کا نکاح بالاتفاق باطل ہے وہ کسی عورت سے نکاح نہیں کر سکتا نہ مسلِمَہ سے نہ کافرہ سے نہ مُرتدہ سے نہ حُرّہ سے نہ کنیز سے۔
سوال:تجدیدِنکاح کیسے کیا جائے؟
جواب:تجدیدِ نکاح کا معنیٰ ہے :’’نئے مَہر سے نیا نکاح کرنا۔‘‘اِس کیلئے لوگوں کو اِکٹھا کرنا ضروری نہیں ۔ نکاح نام ہے اِیجاب و قبول کا ۔ ہاں بوقتِ نکا ح بطورِ گواہ کم ازکم دو مَرد مسلمان یا ایک مَرد مسلمان اور دو مسلمان عورتوں کا حاضِرہونا لازمی ہے۔خُطبۂ نکاح شرط نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے۔ خطبہ یاد نہ ہوتو اَعُوْذُ بِاللہ اور بِسمِ اﷲشریف کے بعد سورۂ فاتِحہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔کم ازکم دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی(موجودہ وزن کے حساب سے 30 گرام 618 مِلی گرام چاندی )یا اُس کی رقم مہَر واجِب ہے ۔ مثلاً آپ نے پاکستانی 786 روپے اُدھار مہَر کی نیّت کر لی ہے (مگر یہ دیکھ لیجئے کہ مہر مقرر کرتے وقت مذکورہ چاندی کی قیمت