بھی ہو ۔مَثَلاً جس نے ویزا فارم پر اپنے آپ کوکرسچین لکھ دیا وہ اس طرح کہے :’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں نے جو ویزا فارم میں اپنے آپ کو کرسچین ظاہِر کیا ہے اس کُفر سے توبہ کرتا ہوں۔ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمدصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں )‘‘اِس طرح مخصوص کُفر سے توبہ بھی ہو گئی اور تجدیدِ ایمان بھی۔ اگرمَعَاذاللہکئی کُفرِیّات بکے ہوں اور یاد نہ ہو کہ کیا کیا بکا ہے تویوں کہے:’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھ سے جو جو کُفرِیّات صادِر ہوئے ہیں میں ان سے توبہ کرتا ہوں۔‘‘ پھر کلِمہ پڑھ لے ۔(اگر کلمہ شریف کا ترجَمہ معلوم ہے تو زبان سے تر جَمہ دُہرانے کی حاجت نہیں ) اگریہ معلوم ہی نہیں کہ کُفر بکا بھی ہے یا نہیں تب بھی اگر احتیاطاً توبہ کرنا چاہیں تو اسطرح کہئے:’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!اگر مجھ سے کوئی کُفر ہو گیا ہو تو میں اُس سے توبہ کرتا ہوں ۔‘‘یہ کہنے کے بعد کلِمہ پڑھ لیجئے ۔
مُرتد سے متعلق چند فقہی احکام
سوال:مُرتد مسلمان ہوگیا ،اب اِرتداد سے پہلے جو عبادات ادا کی تھیں کیا ان کو دوبارہ ادا کرنا ہوگا؟اور جو عبادات اِرتداد سے پہلے قضا تھیں کیا ان کی ادائیگی اب بھی لازم ہے؟
جواب: زمانۂ اسلام میں کچھ عبادات قضا ہوگئیں اور ادا کرنے سے پہلے مُرتد ہوگیا پھر مسلمان ہوا تو ان عبادات کی قضاکرے اور جو ادا کر چکا تھا اگرچہ اِرتداد سے باطل ہو گئیں مگر اس کی قضا نہیں البتہ اگر صاحبِ استطاعت ہو تو حج دوبارہ فرض ہوگا۔
سوال:مَرد نے کفرِ قطعی کیا تو اس کے نکاح کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر کفرِ قطعی ہو تو عورت نکاح سے نکل جائے گی پھر اسلام لانے کے بعد اگر