Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
56 - 132
کے اپنی نبوّت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا حضرت سیّدنا مسیح عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی شانِ پاک میں سخت سخت حملے کرتا ہے پھر حیلے گڑھتا ہے ۔۔۔۔۔ایسی باتوں سے کفر نہیں ہٹ سکتا کفر اٹھانے کا جو نہایت آسان طریقہ ہے کاش! اسے برتتے تو ان زحمتوں میں نہ پڑتے اور عذابِ آخرت سے بھی اِنْ شَآءَ اﷲرہائی کی صورت نکلتی وہ صرف توبہ ہے کہ کفر و شِرک سب کو مٹا دیتی ہے، مگر اس میں وہ اپنی ذِلّت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خدا کو محبوب، اُس کے محبوبوں کو پسند، تمام عُقَلا کے نزدیک اس میں عزّت۔
اِرتدادسے توبہ کا طریقہ
سوال:اِرتداد سے توبہ کا کیا طریقہ ہے ؟
جواب: کسی دینِ باطل کو اختیار کیا مثلاً یہودی یا نصرانی ہو گیا ایسا شخص مسلمان اس وقت ہو گا کہ اس دینِ باطل سے بیزاری و نفرت ظاہر کرے اور دینِ اسلام قبول کرے۔ اور اگر ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا انکار کیا ہو تو جب تک اُس کا اقرار نہ کرے جس سے انکار کیا ہے محض کلمۂ شہادت پڑھنے پر اس کے اسلام کا حکم نہ دیا جائے گا کہ کلمۂ شہادت کا اس نے بظاہر انکار نہ کیا تھا مثلاً نماز یا روزہ کی فرضیّت سے انکار کرے یا شراب اور سؤر کی حرمت نہ مانے تو اس کے اسلام کے لیےیہ شرط ہے کہ جب تک خاص اس اَمر کا اقرار نہ کرے اس کا اسلام قبول نہیں یا اﷲتعالیٰ اور رسولُ اﷲ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی جناب میں گستاخی کرنے سے کافر ہوا تو جب تک اس سے توبہ نہ کرے مسلمان نہیں ہو سکتا۔
سوال:تجدید ِایمان کا طریقہ بھی بتا دیجئے؟
جواب:جس کُفر سے توبہ مقصود ہے وہ اُسی وقت مقبول ہو گی جبکہ وہ اُس کُفر کو کُفر تسلیم کرتا ہو اوردل میں اُس کُفر سے نفرت و بیزاری بھی ہو۔ جو کُفرسرزد ہوا توبہ میں اُس کاتذکِرہ